ممبئی،5؍ اپریل(ایس او نیوز؍پریس ریلیز)ممبئی کی خصوصی این آئی اے عدالت میں گذشتہ دو دنوں کے دوران مالیگاؤں ۲۰۰۸ء بم دھماکہ معاملے میں سات سرکاری گواہوں کی گواہیاں عمل میں آئی جسمیں دو ایسے بزرگ بھی شامل ہیں جو بم دھماکوں کے وقت بھکو چوک میں موجود تھے اور آج گواہی دینے کے لیئے دونوں ایک ساتھ ممبئی پہنچے ۔
جگری دوست حاجی عبدالحکیم انگن(۸۰) اور محی الدین ضمیر الدین (۷۰) نے خصوصی این آئی اے عدالت کے جج ونود پڈالکر کو وکیل استغاثہ اویناس رسال کی جانب سے پوچھے گئے سوالات کا جواب دیتے ہوئے بتایا کہ ۹؍ ستمبر ۲۰۰۸ء کو وہ عید کی خریداری کے لیئے قدوائی روڈ جارہے تھے اور تقریباً ساڑھے نو بجے کے قریب و ہ جیسے ہی بھکو چوک پہنچے زبردست بم دھماکہ ہوا جس میں دونوں کو شدید چوٹیں آئیں جس کے بعد انہیں نا معلوم افراد نے بغرض علاج نور اسپتال پہنچا یا تھا جہاں ان کا کئی دنوں تک علاج چلتا رہا ۔
سرکاری گواہ دونوں بزرگوں کے علاوہ دیگر پانچ گواہوں کے بیانا ت عدالت نے قلمبند کیئے جن کے نام عتیق الرحمن، نفیس احمد، شیخ شفیق شیخ یونس، محمد سہیل ہارون اور اسرا ر محمد فاروق ہیں جنہوں نے عدالت کو بم دھماکوں کی تفصیلابتائیں جس کے بعد بھگوا ملزمین کے وکلاء نے ان سے جرح کی اور ان پر این آئی اے کے دباؤ میں جھوٹی گواہی دینے کا الزام عائد کیا۔
دوران سماعت عدالت میں متاثرین کو قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) قانونی امداد کمیٹی کی جانب سے حسب سابق ایڈوکیٹ شاہد ندیم، ایڈوکیٹ ہیتالی سیٹھ اور عادل شیخ و دیگر موجود تھے۔
آج کی عدالتی کارروائی کے بعد خصوصی این آئی اے جج پڈالکر نے استغاثہ کو حکم دیا وہ پیر کے دن مزید گواہوں کو عدالت میں گواہی کے لیئے پیش کرے اور اپنی سماعت ملتوی کردی۔